حدیث نمبر: 16186
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَكُلُّنَا يَرَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ ؟ ، قَالَ : " يَا أَبَا رَزِينٍ أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ مُخْلِيًا بِهِ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَاللَّهُ أَعْظَمُ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابورزین سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! قیامت کے دن کیا ہم میں سے ہر شخص اللہ کا دیدار کر سکے گا اور اس کی مخلوق میں اس کی علامت کیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابورزین کیا تم میں سے ہر شخص آزادی کے ساتھ چاند نہیں دیکھ سکتا میں نے کہا یا رسول اللہ ! کیوں نہیں فرمایا : تو پھر اللہ اس سے بھی زیادہ عظیم ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16186
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال وكيع بن حدس