حدیث نمبر: 16160
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَوْسًا ، يَقُولُ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ ، فَكُنَّا فِي قُبَّةٍ ، فَقَامَ مَنْ كَانَ فِيهَا غَيْرِي وَغَيْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَارَّهُ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ " ثُمَّ قَالَ : " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ " قَالَ : بَلَى ، وَلَكِنَّهُ يَقُولُهَا تَعَوُّذًا ، فَقَالَ : " رُدَّهُ " ثُمَّ قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا حُرِّمَتْ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا " ، فَقُلْتُ لِشُعْبَةَ : أَلَيْسَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ : " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " قَالَ شُعْبَةُ : أَظُنُّهَا مَعَهَا وَمَا أَدْرِي .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا اوس سے مروی ہے کہ میں بنوثقیف کے وفد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ابھی ہم اسی خیمے میں تھے میرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ سب لوگ اٹھ کر جاچکے تھے کہ ایک آدمی آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کرنے لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جا کر اسے قتل کر دو پھر فرمایا : کیا وہ لا الہ الاللہ کی گواہی نہیں دیتا اس نے کہا کیوں نہیں لیکن وہ اپنی جان بچانے کے لئے یہ کلمہ پڑھتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے چھوڑ دو مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ لیں جب وہ یہ جملہ کہہ لیں تو ان کی جان ومال محترم ہو گئے سوائے اس کلمے کے حق کے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16160
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، رجاله ثقات، وفي قول شعبة: «عن النعمان، سمعت أوسا.» وقفة والاشبه : عن النعمان بن سالم عن عمرو بن اوس . عن اوس . ثم إن شعبه لم يضبط متن هذا الحديث