حدیث نمبر: 16111
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَدِمَتْ قُتَيْلَةُ ابْنَةُ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ عَبْدِ أَسْعَدَ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حَسَلٍ عَلَى ابْنَتِهَا أَسْمَاءَ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ بِهَدَايَا ، ضِبَابٍ وَأَقِطٍ وَسَمْنٍ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ ، فَأَبَتْ أَسْمَاءُ أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَتُدْخِلَهَا بَيْتَهَا ، فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ سورة الممتحنة آية 8 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، " فَأَمَرَهَا أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا ، وَأَنْ تُدْخِلَهَا بَيْتَهَا " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن زیبر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ قتیلہ بنت عبدالعزی اپنی بیٹی سیدنا اسماء بنت ابی بکر کے پاس حالت کفر و شرک میں کچھ ہدایا لے کر مثلا گوہ، پنیر اور گھی لے کر آئی سیدنا اسماء نے اس کے تحائف قبول کرنے سے انکار کر دیا اور انہیں اپنی والدہ کا حالت شرک میں گھر میں داخل ہو نا بھی اچھا نہ لگا سیدنا عائشہ نے یہ مسئلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : تو اللہ نے یہ آیت نازل کر دی کہ اللہ تمہیں ان لوگوں سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے قتال نہیں کیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی والدہ کا ہدیہ قبول کر لینے اور انہیں اپنے گھر میں بلالینے کا حکم دیا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16111
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف مصعب بن ثابت