حدیث نمبر: 15974
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ : اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ نَسْتَطِيعُ أَنْ نَرُدَّ أَمْرَهُ لَرَدَدْنَاهُ ، وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَنْ عَوَاتِقِنَا مُنْذُ أَسْلَمْنَا لِأَمْرٍ يُفْظِعُنَا إِلَّا أَسْهَلَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ ، إِلَّا هَذَا الْأَمْرَ مَا سَدَدْنَا خَصْمًا إِلَّا انْفَتَحَ لَنَا خَصْمٌ آخَرُ .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا سہل بن حنیف سے مروی ہے کہ اپنی رائے کو ہمیشہ صحیح نہ سمجھا کر و میں نے ابوجندل والا دن دیکھا ہے اگر ہم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حکم کو ٹالنے کی ہمت ہو تی تو اس دن ٹال دیتے واللہ اسلام قبول کرنے کے بعد جب بھی ہم نے کسی پریشان کن معاملے میں اپنے کندھوں سے تلواریں اتاریں وہ ہمارے لئے آسان ہو گیا سوائے اس معاملے کے کہ جب بھی ہم ایک فریق کا راستہ بند کرتے ہیں تو دوسرے کا راستہ کھل جاتا ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15974
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3181، م: 1785