حدیث نمبر: 1582
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى السَّوَاقِي مِنَ الزَّرْعِ ، وَبِمَا سَعِدَ بِالْمَاءِ مِنْهَا ، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، وَأَذِنَ لَنَا أَوْ رَخَّصَ ، بِأَنْ نُكْرِيَهَا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم لوگ اپنے کھیت کرائے پر دے دیا کرتے تھے اور اس کا عوض یہ طے کر لیا کرتے تھے کہ نالیوں کے اوپر جو پیداوار ہو اور جسے پانی خود بخود پہنچ جائے وہ ہم لیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کرائے پر زمین دینے سے منع فرما دیا، اور سونے چاندی کی بدلے زمین کو کرایہ پر دینے کی اجازت دے دی۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1582
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن عبدالرحمن بن لبيبة ضعيف ومحمد بن عكرمة مجهول .