حدیث نمبر: 15598
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ , عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ , قَالَ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ ، فَأَقَمْنَا مَعَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا ، فَظَنَّ أَنَّا قَدْ اشْتَقْنَا أَهْلَنَا ، فَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا فِي أَهْلِنَا ، فَأَخْبَرْنَاهُ ، فَقَالَ : " ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ ، فَأَقِيمُوا فِيهِمْ ، وَعَلِّمُوهُمْ ، وَمُرُوهُمْ إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ ، فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا مالک بن حویرث سے مروی ہے کہ ہم چند نوجوان جو تقریبا ہم عمر تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیس راتیں اپ کے یہاں قیام پذیر رہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بڑے مہربان اور نرم دل تھے آپ نے محسوس کیا ہمیں اپنے گھروالوں سے ملنے کا اشتیاق پیداہو رہا ہے تو آپ نے ہم سے پوچھا کہ اپنے پیچھے گھر میں کسے چھوڑ کر آئے ہو ہم نے بتادیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اب تم اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ یہیں پر رہواور انہیں تعلیم دو اور انہیں بتاؤ کہ جب نماز کا وقت آ جائے تو ایک شخص کو اذان دینی چاہیے اور جو سب سے بڑا ہواسے امامت کر نی چاہیے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15598
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6008 ،م: 674