حدیث نمبر: 15595
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتُحِبُّهُ ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أُحِبُّهُ ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا فَعَلَ ابْنُ فُلَانٍ ؟ " قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِيهِ : " أَمَا تُحِبُّ أَنْ لَا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ يَنْتَظِرُكَ ؟ " فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَهُ خَاصَّةً أَمْ لِكُلِّنَا ؟ قَالَ : " بَلْ لِكُلِّكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا قرہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے کو لے کر آتا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس شخص سے پوچھا کہ کیا تمہیں اپنے بیٹے سے محبت ہے اس نے کہا یا رسول اللہ ! جیسی محبت میں اس سے کرتا ہوں اللہ بھی آپ سے اسی طرح محبت کر ے پھر وہ شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے غائب رہنے لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ فلاں شخص کا کیا بنا لوگوں نے بتایا کہ اس کا بیٹافوت ہو گیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ تم کیا اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم جنت کے جس دروازے پر جاؤ تو اسے اپنا انتظار کرتے ہوئے پاؤ ایک آدمی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! یہ حکم اس کے ساتھ خاص ہے یا ہم سب کے لئے ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سب کے لئے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15595
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح