حدیث نمبر: 1556
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ، قُتِلَ أَخِي عُمَيْرٌ ، وَقَتَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ ، وَأَخَذْتُ سَيْفَهُ ، وَكَانَ يُسَمَّى ذَا الْكَتِيفَةِ ، فَأَتَيْتُ بِهِ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " اذْهَبْ ، فَاطْرَحْهُ فِي الْقَبَضِ " ، قَالَ : فَرَجَعْتُ وَبِي مَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ مِنْ قَتْلِ أَخِي ، وَأَخْذِ سَلَبِي ، قَالَ : فَمَا جَاوَزْتُ إِلَّا يَسِيرًا ، حَتَّى نَزَلَتْ سُورَةُ الْأَنْفَالِ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ فَخُذْ سَيْفَكَ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن میرے بھائی عمیر شہید ہو گئے اور میں نے سعید بن عاص کو قتل کر دیا اور اس کی تلوار لے لی، جس کا نام «ذَا الْكَتِيفَةِ» تھا، میں وہ تلوار لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا کر یہ تلوار مال غنیمت میں ڈال دو۔“ مجھے اپنے بھائی کی شہادت کا جو غم تھا اور مال غنیمت کے حصول کا جو خیال تھا، اسے اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا، ابھی میں تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ سورہ انفال نازل ہو گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا کر اپنی تلوار لے لو۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1556
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا الإسناد ضعيف لأن محمد بن عبيد الله لم يدرك سعداً .