حدیث نمبر: 1555
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، أَنْبَأَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً ؟ قَالَ : " الْأَنْبِيَاءُ ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ ، فَالْأَمْثَلُ ، حَتَّى يُبْتَلَى الْعَبْدُ عَلَى قَدْرِ دِينِهِ ذَاكَ ، فَإِنْ كَانَ صُلْبَ الدِّينِ ابْتُلِيَ عَلَى قَدْرِ ذَاكَ ، وَقَالَ مَرَّةً اشْتَدَّ بَلاَؤُه وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ابْتُلِيَ عَلَى قَدْرِ ذَاكَ ، وَقَالَ مَرَّةً : عَلَى حَسَبِ دِينِهِ ، قَالَ : فَمَا تَبْرَحُ الْبَلَايَا عَنِ الْعَبْدِ ، حَتَّى يَمْشِيَ فِي الْأَرْضِ يَعْنِي : وَمَا إِنْ عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ " ، قَالَ أَبِي ، وَقَالَ مَرَّةً ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! سب سے زیادہ سخت مصیبت کن لوگوں پر آتی ہے؟ فرمایا: ”انبیاء کرام علیہم السلام پر، پھر درجہ بدرجہ عام لوگوں پر، انسان پر آزمائش اس کے دین کے اعتبار سے آتی ہے، اگر اس کے دین میں پختگی ہو تو اس کے مصائب میں مزید اضافہ کر دیا جاتا ہے، اور اگر اس کے دین میں کمزوری ہو تو اس کے مصائب میں تخفیف کر دی جاتی ہے، اور انسان پر مسلسل مصائب آتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ زمین پر چلتا ہے تو اس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1555
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن .