حدیث نمبر: 14896
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، قَالَ : فَاسْتَأْذَنْتُ أَتَعَجَّلُ ، قُلْتُ : إِنِّي تَزَوَّجْتُ ، قَالَ : " ثَيِّبًا أَمْ بِكْرًا ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : ثَيِّبًا ، قَالَ : " فَأَلَّا كَانَتْ بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ ؟ " ، قَالَ : " انْطَلِقْ وَاعْمَلْ عَمَلًا كَيِّسًا " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَعْنِي لَا تَطْرُقْهُنَّ لَيْلًا .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے میں تھے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جلدی جانے کی اجازت مانگی اور عرض کیا : کہ میری شادی ہو گئی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کنواری سے یا شوہر دیدہ سے میں نے عرض کیا : شوہر دیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے ؟ اور وہ تم سے کھیلتی پھر فرمایا کہ جاؤ اور اپنی بیوی سے قربت کر و۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14896
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وانظر: 14132 و 14184