حدیث نمبر: 14829
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " غَطُّوا الْإِنَاءَ ، وَأَوْكِئُوا السِّقَاءَ ، فَإِنَّ فِي السَّنَةِ لَيْلَةً ، يَنْزِلُ فِيهَا وَبَاءٌ ، لَا يَمُرُّ بِإِنَاءٍ لَمْ يُغَطَّ ، وَلَا سِقَاءٍ لَمْ يُوكَ ، إِلَّا وَقَعَ فِيهِ مِنْ ذَلِكَ الْوَبَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے برتن ڈھانپ دیا کر و اور مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کر و کیونکہ سال میں ایک رات ایسی بھی آتی ہے جس میں وہ بلائیں اترتی ہیں وہ ایسے برتن پر جسے ڈھانپا نہ گیا ہو یا وہ مشکیزہ جس کا منہ باندھا گیا گزرتی ہیں اس میں داخل ہو جاتی ہیں۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14829
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2014، وانظر: 14434