حدیث نمبر: 14818
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَمِيرًا مِنْ أُمَرَاءِ الْفِتْنَةِ قَدِمَ الْمَدِينَةَ ، وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُ جَابِرٍ ، فَقِيلَ لِجَابِرٍ : لَوْ تَنَحَّيْتَ عَنْهُ ، فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ فَنُكِّبَ ، فَقَالَ : تَعِسَ مَنْ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ابْنَاهُ ، أَوْ أَحَدُهُمَا يَا أَبَتِ ، وَكَيْفَ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ مَاتَ ؟ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ ، فَقَدْ أَخَافَ مَا بَيْنَ جَنْبَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال

زید بن اسلم کہتے ہیں کہ ایام فتنہ میں کوئی گورنر مدینہ منورہ آیا اس وقت تک سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی بینائی ختم ہو چکی تھی کسی نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر آپ ایک طرف کو ہو جائیں تو اچھا ہے اس پر وہ اپنے دو بیٹوں کے سہارے چلتے ہوئے باہر آئے اور فرمایا : وہ شخص تباہ ہو جائے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوفزدہ کرتا ہے ان کے کسی بیٹے نے پوچھا : اباجان نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو وصال فرما چکے اب انہیں کوئی کیسے ڈرا سکتا ہے انہوں نے فرمایا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو اہل مدینہ کو خوفزدہ کرتا ہے وہ میرے دونوں پہلوؤں کے درمیان کی چیز کو خوفزدہ کرتا ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14818
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وفي هذا الإسناد انقطاع، فإن زيد بن أسلم لم يسمع من جابر