حدیث نمبر: 14638
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا شَاذَانُ أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يُخَلِّفَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ لَهُ عَلِيٌّ : مَا يَقُولُ النَّاسُ فِيَّ إِذَا خَلَّفْتَنِي ؟ ، قَالَ : فَقَالَ : " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ؟ إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ " ، أَوْ " لَا يَكُونُ بَعْدِي نَبِيٌّ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی کو اپنے پیچھے چھوڑنے کا ارادہ کیا تو وہ کہنے لگے کہ اگر آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے تو لوگ میرے متعلق کیا کہیں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو جو سیدنا ہارون کو سیدنا موسیٰ سے تھی البتہ یہ ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14638
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك النخعي سيئ الحفظ، وعبدالله بن محمد بن عقيل ليس بذاك القوي