حدیث نمبر: 14632
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَاجْتَمَعَ قَوْمُ ذَا وَقَوْمُ ذَا ، وَقَالَ : هَؤُلَاءِ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ ! وَقَالَ : هَؤُلَاءِ يَا لَلْأَنْصَارِ ! فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا مَا بَالُ دَعْوَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ ، أَلَا مَا بَالُ دَعْوَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو غلام آپس میں لڑپرے جن میں سے ایک کسی مہاجر کا اور دوسرا کسی انصاری کا تھا مہاجر نے مہاجرین کو اور انصاری نے انصار کو آوازیں دے کر بلانا شروع کر دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ آوازیں سن کا باہر تشریف لائے اور فرمایا : ان بدبودار نعروں کو چھوڑ دو پھر فرمایا : یہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں یہ زمانہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں ؟۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14632
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3518، م: 2584