حدیث نمبر: 14600
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَعْمَلُ لِأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ ، أَمْ لِأَمْرٍ نَأْتَنِفُهُ ، قَالَ : " لِأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ " ، فَقَالَ سُرَاقَةُ فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ عَامِلٍ مُيَسَّرٌ لِعَمَلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ ! ہمارا عمل کس مقصد کے لئے ہے کیا قلم لکھ کر اسے خشک ہو گئے اور تقدیر کا حکم نافذ ہو گیا پھر ہم اپنی تقدیر خود ہی بناتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قلم اسے لکھ کر خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر کا حکم نافذ ہو گیا سیدنا سراقہ نے پوچھا کہ پھر عمل کا کیا فائدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے اسی عمل کو آسان کر دیا جائے گا جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14600
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2648