حدیث نمبر: 14468
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ يَسْتَنِدُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا صُنِعَ لَهُ الْمِنْبَرُ ، فَاسْتَوَى عَلَيْهِ ، اضْطَرَبَتْ السَّارِيَةُ كَحَنِينِ النَّاقَةِ ، حَتَّى سَمِعَهَا أَهْلُ الْمَسْجِدِ ، فَنَزَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَالْتَزَمَهَا ، فَسَكَنَتْ ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَرَوْحٌ اضْطَرَبَتْ تِلْكَ السَّارِيَةُ ، وَقَالَ رَوْحٌ فَاعْتَنَقَهَا ، فَسَكَنَتْ ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَسَكَتَتْ .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے تنے پر سہارا لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب منبر بن گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے تو لکڑی کا وہ تنا اس طرح رونے لگا جیسے اونٹنی اپنے بچے کے لئے روتی ہے اور مسجد میں موجود تمام لوگوں نے اس کی آواز سنی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس چل کر آئے اور اسے گلے لگایا تو وہ خاموش ہو گیا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14468
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 918