مسند احمد
مسند المكثرين من الصحابة
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ لَهُ أَهْلٌ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ ، وَإِنَّ أَفْضَلَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ " ، ثُمَّ يَرْفَعُ صَوْتَهُ ، وَتَحْمَرُّ وَجْنَتَاهُ ، وَيَشْتَدُّ غَضَبُهُ ، إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ ، كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ ، قَالَ ، ثُمَّ يَقُولُ : " أَتَتْكُمْ السَّاعَةُ ، بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا وَأَشَارَ بِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى صَبَّحَتْكُمْ السَّاعَةُ وَمَسَّتْكُمْ ، مَنْ تَرَكَ مَالًا ، فَلِأَهْلِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا ، فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ " وَالضَّيَاعُ يَعْنِي وَلَدَهُ الْمَسَاكِينَ .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا : سب سے سچی بات کتاب اللہ ہے ، سب سے افضل طریقہ محمد کا طریقہ ہے، بدترین چیز نو ایجاد ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے پھر جوں جوں آپ قیامت کا تذکر ہ فرمانے لگے آپ کی آواز بلند ہوتی جاتی ، پھر فرمایا : قیامت تم پر آ گئی ہے مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا ، تم پر صبح کو قیامت آ گئی ہے یا شام کو ، جو شخص مال و دولت چھوڑ جائے وہ اس کے اہل خانہ کا ہے اور جو شخص قرض یا بچے چھوڑ دے وہ میرے ذمہ ہے ۔