حدیث نمبر: 14323
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ : " مَتَى تُوتِرُ ؟ " قَالَ : أَوَّلَ اللَّيْلِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ ، قَالَ : " فَأَنْتَ يَا عُمَرُ ؟ " ، قَالَ : آخِرَ اللَّيْلِ ، قَالَ : " أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ ، فَأَخَذْتَ بِالثِّقَةِ ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا عُمَرُ ، فَأَخَذْتَ بِالْقُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیق اکبر سے پوچھا کہ آپ نماز وتر کب پڑھتے ہیں انہوں نے عرض کیا : نماز عشاء کے بعد رات کے پہلے پہر میں ، یہی سوال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر سے پوچھا : تو انہوں نے عرض کیا : رات کے آخری پہر میں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر تم نے اس پہلو کو ترجیح دی جس میں اعتماد ہے اور عمر نے اس پہلو کو ترجیح دی جس میں قوت ہے ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14323
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل