حدیث نمبر: 14317
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ذَكَرُوا الرَّجُلَ يُهِلُّ بِعُمْرَةٍ فَيَحِلُّ ، هَلْ لَهُ أَنْ يَأْتِيَ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ؟ فَسَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : لَا ، حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ قَالَ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 .
مولانا ظفر اقبال

عمرو کہتے ہیں کہ علماء میں ایک مرتبہ اس بات کا ذکر ہوا کہ اگر کوئی آدمی عمرہ کا احرام باندھے پھر حلال ہو جائے تو کیا وہ صفا مروہ کی سعی کئے بغیر آ سکتا ہے ؟ میں نے یہ مسئلہ پوچھا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے، تو انہوں نے فرمایا کہ جب تک صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کر لے اس وقت تک حلال نہیں ہو گا ، یہی سوال میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا : تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ نے خانہ کعبہ کے گرد طواف کے سات چکر لگائے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی تھی پھر فرمایا کہ تمہارے لئے پیغمبر اللہ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14317
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 395، 396، م- الشطر الثاني-: 1234، وانظر: 4641