حدیث نمبر: 1430
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ يَعِيشَ بْنَ الْوَلِيدِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ مَوْلًى لِآلِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ , أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ الْحَسَدُ ، وَالْبَغْضَاءُ ، وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ ، لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ ، وَلَكِنْ تَحْلِقُ الدِّينَ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، أَوْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا ، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا ، أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِمَا يُثَبِّتُ ذَلِكَ لَكُمْ ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم سے پہلے جو امتیں گذر چکی ہیں ان کی بیماریاں یعنی حسد اور بغض تمہارے اندر بھی سرایت کر گئی ہیں، اور بغض تو مونڈ دینے والی چیز ہے، بالوں کو نہیں بلکہ دین کو مونڈ دیتی ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک کامل مومن نہ ہو جاؤ، اور تم اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایک ایسا طریقہ نہ بتاؤں جسے اگر تم اختیار کر لو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام کو رواج دو۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة / حدیث: 1430
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قسم السلام صحيح لغيره، وسائره حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مولى آل الزبير