حدیث نمبر: 14277
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سِرْتُمْ فِي الْخِصْبِ ، فَأَمْكِنُوا الرِّكَابَ أَسْنَانَهَا ، وَلَا تُجَاوِزُوا الْمَنَازِلَ ، وَإِذَا سِرْتُمْ فِي الْجَدْبِ ، فَاسْتَجِدُّوا ، وَعَلَيْكُمْ بِالدَّلْجِ ، فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ ، وَإِذَا تَغَوَّلَتْ لَكُمْ الْغِيلَانُ ، فَنَادُوا بِالْأَذَانِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالصَّلَاةَ عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ ، وَالنُّزُولَ عَلَيْهَا ، فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَالسِّبَاعِ ، وَقَضَاءِ الْحَاجَةِ ، فَإِنَّهَا الْمَلَاعِنُ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم سرسبز و شاداب علاقے میں سفر کرو، تو اپنی سواریوں کو وہاں کی شادابی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا کرو اور منزل سے آگے نہ بڑھا کرو، اور جب خشک زمین میں سفر کرنے کا اتفاق ہو تو تیزی سے وہاں سے گزر جایا کرو اور اس صورت میں رات کے اندھیرے میں سفر کرنے کو ترجیح دیا کرو کیونکہ رات کے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا زمین لپٹی جا رہی ہے اور اگر راستے سے بھٹک جاؤ، تو اذان دیا کرو، نیز راستے کے بیچ میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے اور وہاں پڑاؤ کرنے سے گریز کیا کرو ، کیونکہ وہ سانپوں اور درندوں کے ٹھکانے ہوتے ہیں، اور یہاں قضاے حاجت بھی نہ کیا کرو کیونکہ یہ لعنت کا سبب ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14277
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: « وإذا تغولت لكم الغيلان فبادروا بالأذان » ، رجاله ثقات رجال الصحيح، لكن الحسن البصري لم يسمع من جابر