حدیث نمبر: 14160
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجْرِ ، قَالَ : " لَا تَسْأَلُوا الْآيَاتِ ، وَقَدْ سَأَلَهَا قَوْمُ صَالِحٍ فَكَانَتْ تَرِدُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ ، وَتَصْدُرُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَعَقَرُوهَا ، وكَانَتْ تَشْرَبُ مَاءَهُمْ يَوْمًا ، وَيَشْرَبُونَ لَبَنَهَا يَوْمًا ، فَعَقَرُوهَا ، فَأَخَذَتْهُمْ صَيْحَةٌ أَهْمَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ مِنْهُمْ ، إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " ، قِيلَ : مَن هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " هُوَ أَبُو رِغَالٍ ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ ، أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَوْمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر قوم ثمود کے کھنڈرات پر ہوا تو فرمایا کہ معجزات کا سوال نہ کیا کر و کیونکہ قوم صالح نے بھی اس کا مطالبہ کیا تھا (جس پر اللہ نے ایک اونٹنی ان کی فرمائش کے مطابق بھیج دی) وہ اونٹنی اس راستے سے آتی تھی اور اس راستے سے نکل جاتی تھی لیکن قوم ثمود نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی اور اس کے پاؤں کاٹ ڈالے حالانکہ وہ اونٹنی ایک دن کا پانی پیتی تھی اور ایک دن وہ اس کا دودھ پیتے تھے لیکن جب انہوں نے اس کے پاؤں کاٹے تو ایک آسمانی چیخ نے انہیں پکڑا اور آسمان کے سائے تلے ایک شخص بھی زندہ نہ بچا سوائے اس آدمی کے جو حرم شریف میں تھا کسی نے پوچھا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون تھا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ " ابو رغال " تھا جب وہ حرم سے نکلا تو اسے بھی اسی عذاب نے آپکڑا جو اس کی قوم پر آیا تھا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14160
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث قوي، أبو الزبير مدلس، وقد عنعن، واختلف على ابن خثيم فيه، فرواه مرة عن أبى الزبير ، وأخرى عن عبدالرحمن بن سابط