حدیث نمبر: 14159
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَال : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ ، فَسَأَلَ " هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ دِينَارَانِ ، قَالَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " ، فَقَالَ : أَبُو قَتَادَةَ هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيّ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابتداء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھاتے تھے چنانچہ ایک میت لائی گئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اس پر کوئی قرض ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ دو دینار قرض ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس کا قرض میرے ذمے ہے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی پھر جب اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر فتوحات کا دروازہ کھولا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ میں ہر مسلمان پر اس کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں اس لئے جو شخص مقروض ہو کر میرے ذمے ہے اور جو شخص دولت چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء ہی کا ہو گا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14159
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله