حدیث نمبر: 14064
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَرَكَ قَتْلَى بَدْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى جَيَّفُوا ، ثُمَّ أَتَاهُمْ فَقَامَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : يَا أُمَيَّةُ بْنَ خَلَفٍ ، يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ ، يَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ ، يَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا ، قَالَ : فَسَمِعَ عُمَرُ صَوْتَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُنَادِيهِمْ بَعْدَ ثَلَاثٍ ؟ وَهَلْ يَسْمَعُونَ ؟ يَقُولُ اللَّهُ عز وجل : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80 ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ مِنْهُمْ ، وَلَكِنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تین دن کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقتولین بدر کی لاشوں کے پاس گئے اور فرمایا اے ابوجہل بن ہشام ! اے عتبہ بن ربیعہ ! اے شیبہ بن خلف ! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے سچا پایا ؟ مجھ سے تو میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا میں نے اسے سچا پایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان لوگوں کو آواز دے رہے ہیں جو مردہ ہوچکے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جو بات کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے، البتہ وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14064
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2874، واستشهاد عمر بقوله تعالى: إنك لا تسمع الموتي غير محفوظ فى حديث أنس