حدیث نمبر: 13796
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِهِ ، يَقُولُ : تَعَالَ نُؤْمِنْ بِرَبِّنَا سَاعَةً ، فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ لِرَجُلٍ ، فَغَضِبَ الرَّجُلُ ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَرَى إِلَى ابْنِ رَوَاحَةَ يَرْغَبُ عَنْ إِيمَانِكَ إِلَى إِيمَانِ سَاعَةٍ ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ ابْنَ رَوَاحَةَ ، إِنَّهُ يُحِبُّ الْمَجَالِسَ الَّتِي تتَبَاهَى بِهَا الْمَلَائِكَةُ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ جب اپنے کسی ساتھی سے ان کی ملاقات ہوئی تو اس سے کہتے کہ آؤ، تھوڑی دیر اپنے رب پر ایمان لے آئیں، ایک دن انہوں نے یہی بات ایک آدمی سے کہی تو وہ غصے میں آگیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابن رواحہ کو تو دیکھئے، یہ لوگوں کو آپ پر ایمان لانے سے موڑ کر تھوڑی دیر کے لئے ایمان کی دعوت دے رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ابن رواحہ پر اپنی رحمتیں برسائے، وہ ان مجلسوں کو پسند کرتے ہیں جن پر فرشتے فخر کرتے ہیں۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13796
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عمارة ابن زاذان وزياد بن عبدالله النميري متكلم فيهما، وقد تفرد بهذا الحديث بهذه السياقة، ولم يتابعهما عليه أحد