حدیث نمبر: 13657
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ يَسْلُتُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ ، وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ ، وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ : لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے سے خون پونچھتے ہوئے فرمایا وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کو زخمی کر دے اور ان کے دانت توڑ دے، جب کہ وہ انہیں اپنے رب کی طرف بلا رہا ہو ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ کو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہے کہ اللہ ان پر متوجہ ہوجائے یا انہیں سزا دے کہ وہ ظالم ہیں "۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13657
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، علقہ البخاري بإثر الحدیث رقم:4068، م: 1791