حدیث نمبر: 13369
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنِّي لَا آلُو أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ ، كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا ، قَالَ : " فَكَانَ أَنَسٌ يَصْنَعُ شَيْئًا لَا أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَهُ ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ انْتَصَبَ قَائِمًا ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ : لَقَدْ نَسِيَ ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ قَعَدَ ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ : لَقَدْ نَسِيَ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تھے میں تمہیں اس طرح نماز پڑھانے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا، راوی کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ جس طرح کرتے تھے میں تمہیں اس طرح کرتے ہوئے نہیں دیکھتا، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ یا رکوع سے سر اٹھاتے اور ان دونوں کے درمیان اتنا لمبا وقفہ فرماتے کہ ہمیں یہ خیال ہونے لگتا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھول تو نہیں گئے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13369
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 821، م: 472.