حدیث نمبر: 13348
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ وَالْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا ، وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا ، وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا ، فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا ، لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ ، وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دینے لگیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، جب وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں، ہمارے قبلے کا رخ کرنے لگیں، ہمارا ذبیحہ کھانے لگیں اور ہماری طرح نماز پڑھنے لگیں تو ہم پر ان کی جان و مال کا احترام واجب ہوگیا، سوائے اس کلمے کے حق کے، ان کے حقوق بھی عام مسلمانوں کی طرح ہوں گے اور ان کے فرائض بھی دیگر مسلمانوں کی طرح ہوں گے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13348
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح من جهة على بن إسحاق المروزي، خ: 392، وأما متابعة الحسن بن يحيي المروزي فقد قال الحسيني فى ترجمته: فيه نظر.