حدیث نمبر: 133
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ . وَحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ الْأَنْصَارُ : مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ ، فَأَتَاهُمْ عُمَرُ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّ النَّاسَ ؟ فَأَيُّكُمْ تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ ؟ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ : نَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ نَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہو گیا تو انصار کہنے لگے کہ ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک امیر تم میں سے ہو گا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور فرمایا : اے گروہِ انصار ! کیا آپ کے علم میں یہ بات نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کی امامت کا حکم خود دیا تھا ؟ آپ میں سے کون شخص اپنے دل کی بشاشت کے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھ سکتا ہے ؟ اس پر انصار کہنے لگے : اللہ کی پناہ ! کہ ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھیں ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 133
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن