حدیث نمبر: 13147
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : " أَبُوكَ فُلَانٌ " فَنَزَلَتْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 إِلَى تَمَامِ الْآيَةَ .
مولانا ظفر اقبال

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ فلاں ہے، اس پر یہ آیت مکمل نازل ہوئی کہ اے اہل ایمان ! ایسی چیزوں کے متعلق سوال مت کیا کرو جو اگر تمہارے سامنے ظاہر ہوجائیں تو تمہیں بری لگیں۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13147
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7295، م: 2359.