حدیث نمبر: 1312
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أخبرنا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنِ الْبَقَرَةِ ؟ فَقَالَ : عَنْ سَبْعَةٍ ، وَسُئِلَ عَنِ الْمَكْسُورَةِ الْقَرْنِ ؟ فَقَالَ : لَا بَأْسَ ، وَسُئِلَ عَنِ الْعَرَجِ ؟ فَقَالَ : مَا بَلَغَتْ الْمَنْسَكَ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَيْنِ وَالْأُذُنَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال

ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے گائے کی قربانی کے حوالے سے سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ ایک گائے سات آدمیوں کی طرف سے کفایت کر جاتی ہے، اس نے پوچھا کہ اگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو تو؟ فرمایا: کوئی حرج نہیں، اس نے کہا کہ اگر وہ لنگڑی ہو؟ فرمایا: اگر قربان گاہ تک خود چل کر جا سکے تو اسے ذبح کر لو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ”جانور کے آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1312
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن