حدیث نمبر: 131
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَكَبَّ عَلَى الرُّكْنِ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ ، وَلَوْ لَمْ أَرَ حِبِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ أَوَ اسْتَلَمَكَ ، مَا اسْتَلَمْتُكَ ، وَلَا قَبَّلْتُكَ ، وَلَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حجر اسود کو بوسہ دینے کے لئے اس پر جھکے تو فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے ، اگر میں نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو تیری تقبیل یا استلام کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا اور کبھی تیرا استلام نہ کرتا ، ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تمہارے لئے اللہ کے پیغمبر کی زندگی کے ایک ایک لمحے میں بہترین رہنمائی موجود ہے ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 131
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي