حدیث نمبر: 13008
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ الْعَبْدُ بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ " قَالُوا : يَا نبيَّ الله ، كَيْفَ يَسْتَعْجِلُ ؟ قَالَ : " يَقُولُ دَعَوْتُ رَبِّي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بندہ اس وقت تک خیر پر رہتا ہے جب تک وہ جلد بازی سے کام نہ لے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جلدی سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا بندہ یوں کہنا شروع کر دے کہ میں اپنے پروردگار سے اتنی دعائیں کیں لیکن اس نے قبول ہی نہیں کی۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13008
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد، يشهد له حديث أبى هريرة السالف برقم: 10312