حدیث نمبر: 12957
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ ، وَلَهَا ابْنٌ مِنْ أَبِي طَلْحَةَ يُكْنَى أَبَا عُمَيْرٍ ، وَكَانَ يُمَازِحُهُ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، فَرَآهُ حَزِينًا ، فَقَالَ : " مَا لِي أَرَى أَبَا عُمَيْرٍ حَزِينًا " فَقَالُوا : مَاتَ نُغَرُهُ الَّذِي كَانَ يَلْعَبُ بِهِ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَقُولُ : أَبَا عُمَيْرٍ ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ " .مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا " جس کا نام ابو عمیر تھا " نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا اے ابو عمیر ! کیا کیا نغیر (چڑیا، جو مرگئی تھی)