حدیث نمبر: 12900
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَهْلِ أَبِي الْأَسَدِ ، عَنْ بُكَيْرٍ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كُنَّا فِي بَيْتِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَجَاءَ رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَقَفَ ، فَأَخَذَ بِعِضَادَةِ الْبَابِ ، فَقَالَ : " الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَلَهُمْ عَلَيْكُمْ حَقٌّ ، وَلَكُمْ مِثْلُ ذَلِكَ ، مَا إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا ، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا ، وَإِذَا عَاهَدُوا وَفَّوْا ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ ایک انصاری کے گھر میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور کھڑے ہو کر دروازے کے کواڑ پکڑ لئے اور فرمایا امراء قریش میں سے ہوں گے اور ان کا تم پر حق بنتا ہے اور ان پر تمہارا بھی اسی طرح حق بنتا ہے، جب لوگ ان سے رحم کی درخواست کریں تو وہ ان سے رحم کا معاملہ کریں، وعدہ کریں تو پورا کریں، فیصلہ کریں تو انصاف کریں، جو شخص ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12900
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقہ وشواھدہ، وهذا إسناد ضعيف لجھالۃ بکیر الجزري