حدیث نمبر: 12612
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْحَلْقَةِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَوْمِ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، فَرَدَّ النَّبِيُّ عَلَيْهِ " عَلَيْكُمْ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ " فَلَمَّا جَلَسَ الرَّجُلُ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ ، كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا أَنْ يُحْمَدَ وَيَنْبَغِي لَهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ قُلْتَ ؟ " فَرَدَّ عَلَيْهِ كَمَا قَالَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْ ابْتَدَرَهَا عَشَرَةُ أَمْلَاكٍ ، كُلُّهُمْ حَرِيصٌ عَلَى أَنْ يَكْتُبَهَا ، فَمَا دَرَوْا كَيْفَ يَكْتُبُوهَا ، حَتَّى يَرْفَعُوهَا إِلَى ذِي الْعِزَّةِ ، فَقَالَ : اكْتُبُوهَا كَمَا قَالَ عَبْدِي " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حلقے میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اور دوسرے لوگوں کو سلام کیا، سب نے اسے جواب دیا، جب وہ بیٹھ گیا تو کہنے لگا " الحمدللہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ کما یحب ربنا ان یحمد وینبغی لہ " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم نے کیا کہا ؟ اس نے ان کلمات کو دوہرا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میں نے دس فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے لکھتا ہے، لیکن انہیں سمجھ نہیں آئی کہ ان کلمات کا ثواب کتنا لکھیں ؟ چنانچہ انہوں نے اللہ سے پوچھا تو اللہ نے فرمایا کہ انہیں اسی طرح لکھ لو جیسے میرے بندے نے کہا ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12612
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، لكن خلف بن خليفة كان قد اختلط قبل موته، وهو قد وهم فى روايته الأول هذا الحديث، فالمحفوظ أن الرجل قال ما قاله من الحمد فى أثناء الصلاة، فانظر: 12034