حدیث نمبر: 12532
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَعَ ثَابِتٍ ، فَقَالَ لَهُ ثابت : إِنِّي اشْتَكَيْتُ ، فَقَالَ : أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ أَبِي الْقَاسِمِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : " قُلْ اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ ، مُذْهِبَ الْبَأْسِ ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي ، لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ ، اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا " .
مولانا ظفر اقبال

عبدالعزیز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس ثابت کے ساتھ گئے، ثابت نے اپنی بیماری کے متعلق بتایا، انہوں نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ منتر نہ بتاؤں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں، فرمایا یوں کہو اے اللہ ! لوگوں کے رب ! تکالیف کو دور کرنے والے ! شفاء عطاء فرما کہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کوئی شفاء دینے والا نہیں ہے، ایسی شفاء عطاء فرما جو بیماری کا نام ونشان بھی نہ چھوڑے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12532
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5742