حدیث نمبر: 12484
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ ، عَنْ وَفَاءٍ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نَقْرَأُ ، فِينَا الْعَرَبِيُّ ، وَالْعَجَمِيُّ ، وَالْأَسْوَدُ وَالْأَبْيَضُ ، إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَنْتُمْ فِي خَيْرٍ ، تَقْرَءُونَ كِتَابَ اللَّهِ ، وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُثَقِّفُونَهُ كَمَا يُثَِّقفُونَ الْقَدَحَ ، يَتَعَجَّلُونَ أُجُورَهُمْ وَلَا ، يَتَأَجَّلُونَهَا " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے، ہم میں عربی، عجمی اور کالے گورے، ہر طرح کے لوگ موجود تھے، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ تم بھلائی پر ہو (اور بہترین زمانے میں ہو) کہ تم کتاب اللہ کی تلاوت کر رہے ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے درمیان موجود ہیں، عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں لوگ ایسے کھڑ کھڑائیں گے جیسے برتن کھڑ کھڑاتے ہیں، وہ اپنا اجر فوری وصول کرلیں گے، آگے کے لئے کچھ نہ رکھیں گے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12484
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة وفاء الخولاني و ضعف ابن الهيعة