حدیث نمبر: 12467
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ إِذْ مَرَّ بِهِمْ يَهُودِيٌّ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُدُّوهُ " ، فَقَالَ : " كَيْفَ قُلْتَ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : سَامٌ عَلَيْكُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، فَقُولُوا وَعَلَيْكَ " ، أَيْ مَا قُلْتَ .مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے " السام علیک " کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اسے میرے پاس بلا کر لاؤ اور اس سے پوچھا کہ کیا تم نے " السام علیک " کہا تھا ؟ اس نے اقرار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ سے) فرمایا جب تمہیں کوئی کتابی سلام کرے تو " صرف وعلیک " کہا کرو۔