حدیث نمبر: 12374
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهَا نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْجِعَهُ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَأَصْحَابُهُ يُخَالِطُونَ الْحُزْنَ ، وَالْكَآبَةَ ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ منَاسِكهمْ ، وَنَحَرُوا الْهَدْيَ بِالْحُدَيْبِيَةِ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا إِلَى قَوْلِهِ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا سورة الفتح آية 1 - 2 ، قَالَ : " لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَتَانِ ، هُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا " ، قَالَ : فَلَمَّا تَلَاهُمَا ، قَالَ رَجُلٌ : هَنِيئًا مَرِيئًا يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَكَ مَا يَفْعَلُ بِكَ ، فَمَا يَفْعَلُ بِنَا ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْآيَةَ الَّتِي بَعْدَهَا لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ سورة الفتح آية 5 حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ .
مولانا ظفر اقبال

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر غم اور پریشانی کے آثار تھے کیونکہ انہیں عمرہ ادا کرنے سے روک دیا گیا تھا اور انہیں حدیبیہ میں ہی اپنے جانور قربان کرنے پڑے تھے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی " انا فتحنا لک فتحا مبینا۔۔۔۔۔۔۔ صراطا مستقیما " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر دو آیتیں ایسی نازل ہوئی ہیں جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاوت فرمائی، تو ایک مسلمان نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو مبارک ہو کہ اللہ نے آپ کو یہ دولت عطاء فرمائی، ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی " لیدخل المومنین والمومنات جنات۔۔۔۔۔۔۔ فوزا عظیما "

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12374
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4172، م : 1786