حدیث نمبر: 122
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي أَبَا دَاوُدَ الطَّيَالِسِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : ضِفْتُ عُمَرَ ، فَتَنَاوَلَ امْرَأَتَهُ ، فَضَرَبَهَا ، وَقَالَ : يَا أَشْعَثُ ، احْفَظْ عَنِّي ثَلَاثًا حَفِظْتُهُنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسْأَلْ الرَّجُلَ فِيمَ ضَرَبَ امْرَأَتَهُ ، وَلَا تَنَمْ إِلَّا عَلَى وَتْرٍ " ، وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ .
مولانا ظفر اقبال

اشعث بن قیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دعوت کی ، ان کی زوجہ محترمہ نے انہیں دعوت میں جانے سے روکا ، انہیں یہ بات ناگوار گزری اور انہوں نے اپنی بیوی کو مارا ، پھر مجھ سے فرمانے لگے اشعث ! تین باتیں یاد رکھو جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کی ہیں ۔ کسی شخص سے یہ سوال مت کرو کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مارا ہے ؟ وتر پڑھے بغیر مت سویا کرو ۔ تیسری بات میں بھول گیا ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 122
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عبدالرحمن المسلي