حدیث نمبر: 12199
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَالِطُنَا ، حَتَّى يَقُولَ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ : " يَا أَبَا عُمَيْرٍ ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ " ، طَائِرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ ، قَالَ : وَنُضِحَ بِسَاطٌ لَنَا ، قَالَ : فَصَلَّى عَلَيْهِ ، وَصَفَّنَا خَلْفَهُ .
مولانا ظفر اقبال

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں آتے تھے اور میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا اے ابوعمیر ! کیا کیا نغیر ؟ چڑیا، جو مرگئی تھی اور ہمارے لئے ایک چادر بچھائی گئی جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ہم نے ان کے پیچھے کھڑے ہو کر صف بنالی۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12199
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6129