حدیث نمبر: 12181
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ ذَاتَ يَوْمٍ : " مَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ الْيَوْمَ جَنَازَةً ؟ ، قَالَ عُمَرُ أَنَا ، قَالَ : مَنْ عَادَ مِنْكُمْ مَرِيضًا ؟ ، قَالَ عُمَرُ : أَنَا ، قَالَ : مَنْ تَصَدَّقَ ؟ ، قَالَ عُمَرُ : أَنَا ، قَالَ : مَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا ؟ ، قَالَ عُمَرُ : أَنَا ، قَالَ : وَجَبَتْ ، وَجَبَتْ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آج تم میں سے کس نے جنازے میں شرکت کی ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم میں سے کسی نے کسی مریض کی عیادت کی ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں نے کی ہے، پھر فرمایا کسی نے صدقہ دیا ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر اپنے آپ کو پیش کیا، پھر پوچھا کہ کسی نے روزہ رکھا ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں نے رکھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12181
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف سلمة بن وردان، والصحيح رواية مسلم فى صحيحه: 1028 من حديث أبى هريرة، أن القائل فيه : "أنا ......أنا" هو أبو بكر، وليس عمر