حدیث نمبر: 12178
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي النَّجَّارِ ، وَكَانَ فِيهِ نَخْلُ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ لَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَامِنُونِي بِهِ " ، فَقَالُوا : لَا نَأْخُذُ لَهُ ثَمَنًا ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْنِيهِ ، وَهُمْ يُنَاوِلُونَهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : أَلَا إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يُبْنَى الْمَسْجِدُ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ دراصل بنونجار کی تھی، یہاں ایک درخت اور مشرکین کی چند قبریں ہوا کرتی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نجار سے فرمایا کہ میرے ساتھ اس کی قیمت طے کرلو، انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس کی قیمت نہیں لیں گے، مسجد نبوی کی تعمیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی شریک تھے، لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اینٹیں پکڑا تے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جا رہے تھے کہ اصل زندگی تو آخرت کی ہے، اے اللہ ! انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما اور مسجد نبوی کی تعمیر سے پہلے جہاں بھی نماز کا وقت ہوجاتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہیں نماز پڑھ لیتے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12178
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2747 ، م: 524