حدیث نمبر: 11812
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : أُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَتَيْتَ عَلَى حَائِطٍ ، فَنَادِ صَاحِبَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَإِنْ أَجَابَكَ وَإِلَّا فَكُلْ مِنْ غَيْرِ أَنْ لاَ تُفْسِدَ ، وَإِنْ أَتَيْتَ عَلَى رَاعٍ ، فَنَادِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَإِنْ أَجَابَكَ ، وَإِلَّا فَكُلْ وَاشْرَبْ مِنْ غَيْرِ أَنْ لا تُفْسِدَ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ، فَمَا بَعْدُ فَصَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم کسی باغ میں جاؤ اور کھانا کھانے لگو تو تین مرتبہ باغ کے مالک کو آواز دے کر بلاؤ، آجائے تو بہت اچھا، ورنہ اکیلے ہی کھالو لیکن حد سے آگے نہ بڑھو، اسی طرح جب تم کسی چرواہے کے پاس سے گذرو تو اسے تین مرتبہ آواز دے لو، اگر وہ آجائے تو بہت اچھا، ورنہ اس کا دودھ پی سکتا ہے جبکہ حد سے آگے نہ بڑھے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ضیافت تین دن تک ہوتی ہے، اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے، وہ صدقہ ہوتا ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ضیافت تین دن تک ہوتی ہے، اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے، وہ صدقہ ہوتا ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11812
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث ضعيف دون قوله: الضيافة ثلاثة أيام فما بعده فصدقة، فهو صحيح. على بن عاصم الواسطي ضعيف، وسماعه من الجريري بعد الاختلاط