حدیث نمبر: 11291
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ ، فَقَالَ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي الْحَرُورِيَّةِ شَيْئًا ؟ قَالَ : " سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ قَوْمًا يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ ، يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ عِنْدَ صَلَاتِهِمْ ، وَصَوْمَهُ عِنْدَ صَوْمِهِمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، أَخَذَ سَهْمَهُ فَنَظَرَ فِي نَصْلِهِ ، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ، ثُمَّ نَظَرَ فِي رُصَافِهِ ، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ، ثُمَّ نَظَرَ فِي قِدْحَتِهِ ، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ، ثُمَّ نَظَرَ فِي الْقُذَذِ فَتَمَارَى ، هَلْ يَرَى شَيْئًا أَمْ لَا " .
مولانا ظفر اقبال

ابوسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرقہ حروریہ کا بھی کوئی تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسی قوم کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے جو دین میں تعمق کی راہ اختیار کرلیں گے، ان کی نمازوں کے آگے تم اپنی نمازوں کو، ان کے روزوں کے سامنے تم اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے، لیکن یہ لوگ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور آدمی اپنا تیر پکڑ کر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پٹھے کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پر کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11291
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 6931، م: 1064