حدیث نمبر: 11248
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ قَمِيصٌ أَوْ عِمَامَةٌ ، ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ ، أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تو پہلے اس کا نام رکھتے مثلاً قمیص یا عمامہ، پھر یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ ! تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے یہ لباس پہنایا، میں تجھ سے اس کی خیر اور جس مقصد کے لئے اسے بنایا گیا ہے، اس کی خیر مانگتا ہوں اور اس کے شر اور جس مقصد کے لئے اسے بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11248
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، سعيد الجريري قد اختلط ، وسماع عبدالله بن المبارك منه بعد اختلاطه