حدیث نمبر: 11083
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمِنَّا الصَّائِمُ ، وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَلَا يَجِدُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ " يَرَوْنَ أَنَّهُ يَعْنِي مَنْ وَجَدَ قُوَّةً فَصَامَ ، فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ ، وَيَرَوْنَ أَنَّهُ مَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَأَفْطَرَ ، فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں شریک ہوتے تو ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھ لیتے اور کچھ نہ رکھتے، لیکن روزہ رکھنے والا چھوڑنے والے پر یا چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی احسان نہیں جتاتا تھا، (مطلب یہ ہے کہ جس آدمی میں روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی، وہ روزہ رکھ لیتا اور جس میں ہمت نہ ہوتی وہ چھوڑ دیتا، بعد میں قضاء کرلیتا)

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11083
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1116 .