حدیث نمبر: 11045
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ حَائِطًا فَأَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ ، فَلْيُنَادِ يَا صَاحِبَ الْحَائِطِ ، ثَلَاثًا ، فَإِنْ أَجَابَهُ ، وَإِلَّا فَلْيَأْكُلْ ، وَإِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ بِإِبِلٍ فَأَرَادَ أَنْ يَشْرَبَ مِنْ أَلْبَانِهَا ، فَلْيُنَادِ يَا صَاحِبَ الْإِبِلِ ، أَوْ يَا رَاعِيَ الْإِبِلِ ، فَإِنْ أَجَابَهُ ، وَإِلَّا فَلْيَشْرَبْ ، وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ، فَمَا زَادَ فَهُوَ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی باغ میں جائے اور کھانا کھانے لگے تو تین مرتبہ باغ کے مالک کو آواز دے کربلائے، اگر وہ آجائے تو بہت اچھا، ورنہ اکیلا ہی کھالے، اسی طرح جب تم میں سے کوئی شخص کسی اونٹ کے پاس سے گذرے اور اس کا دودھ پینا چاہے تو اونٹ کے مالک کو آواز دے لے، اگر وہ آجائے تو بہت اچھا ورنہ اس کا دودھ پی سکتا ہے۔ اور ضیافت تین دن تک ہوتی ہے، اس کے بعدجو کچھ ہوتا ہے وہ صدقہ ہوتا ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11045
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، مؤمل بن إسماعيل -وإن كان سيئ الحفظ - متابع، وله شواهد تقويه .