حدیث نمبر: 11021
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ " ، وَالْمُزَابَنَةُ : اشْتِرَاءُ الثَّمَرَةِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا ، وَالْمُحَاقَلَةُ كَرْاءُ الْأَرْضِ .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے، بیع مزابنہ سے مراد یہ ہے کہ درختوں پر لگے ہوئے پھل کوئی کٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر معاملہ کرنا اور محاقلہ کا مطلب زمین کو کرائے پر دینا ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11021
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2186، م: 1546